جہنمی کتا
مجذوب اشرفعلی کا محبوب خلیفہ خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے اشرف السوانح میں ایک واقعہ لکھا ـ واقعہ کیا ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گستاخی پر گستاخی کرنا ہے ـ خود پڑھیں اور فیصلہ کریں ـ

اسی طرح کانپور میں کاکوری کے ایک بہت معزز اور باوجاہت رئیس تھے جن کا نام منشی صفدر حسین تھا ـ ایسے آن بان کے تھے کہ کسی سے ملنے جلنے بھی نہ جاتے تھے اور ہمیشہ اپنے مکان کے سہ منزلہ حصہ پر رہتے تھے اور وہاں سے بہت کم اترتے تھے ـ بڑے دماغ دار تھے ـ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت نعوذباللہ بہت بدگمانی رکھتے تھے اور اپنی مجلس میں خلاف شان کلمات کہتے رہتے تھے ـ

قاضی وصی الدین صاحب جو شہر میں کئی حیثیتوں سے معزز شخص تھے ـ ایک دن حضرت والا ( تھانوی ) کو ان کے پاس لیگئے اور کہا کہ آپ اپنے شبہات ان سے حل کر لیجئے ـ انھوں نے کہا کہ میرے شبہات تاریخی واقعات ہیں ـ ان کو کون حل کر سکتا ہے پھر انھوں نے حدیث پڑھی

" من سب اصحابی فقد سبنی و من سبنی فقد سب اللہ "

اور یہ ثابت ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے ـ

حضرت والا نے فورا جواب دیا کہ

یہ تو غیر صحابی کے لئے ہے ـ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بادشاہ یوں کہے کہ اگر کوئی ہمارے شہزادوں کو آنکھ بھر کر دیکھے گا تو ہم اس کی آنکھیں نکلوا لیں گے ـ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر شہزادے بھی آپس میں لڑیں گے تو ان کی بھی یہی سزا ہوگی ـ چاہے اور کوئی سزا ہو مگر یہ سزا ہرگزمراد نہ ہوگی بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی غیر شخص تیز نظر سے دیکھے گا تو اس کے لئے یہ سزا ہے ـ جب اس کا ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو اپنی شرم اتارنے کے لئے ایک ہندو بنگالی بابو سے جو اس وقت وہاں بیٹھے ہوئے تھے طعن کے طور پر کہنے لگے کہ دیکھئے بابو صاحب ہمارے علماء ذہانت سے کام لیتے ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا اور غالبا پکار کر فرمایا تو کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ غباوت سے کام لیا کریں اسپر وہ خاموش ہوگئے ـ

چونکہ ان کو سب کے سامنے شرمندگی ہوئی اور بڑے آدمی تھے اس لئے حضرت والا نے بغایت حسن اخلاق اس کا کچھ تدارک فرمانا چاہا چونکہ وہ کچھ عملیات جانتے تھے اس لئے انکی شرمندگی مٹانے کے لئے حضرت والا نے ان سے اپنی ایک احتیاج ظاہر کی کہ مجھے نیند بہت کم آتی ہے ـ اس لئے کوئی عمل تجویز فرما دیجئے ـ اس فرمایش پر ان کی سب شرمندگی دھل گئی اور فورا خوش ہو کر بولے کہ بہت اچھا میں پلیٹ پر کچھ لکھ کر بھیج دیا کرونگا اس کو پی لیا کیجئے گا چنانچہ کئی روز تک ان کے پاس پلیٹ بھیجی گئی اور وہ پلیٹ لکھ کر بھیجتے رہے پھر تو ان کو حضرت والا سے اتنا تعلق ہو گیا کہ گاہ گاہ اچھی اچھی چیزیں پکوا کر تحفہ بھیجا کرتے ـ

( اشرف السوانح ، ج 1 ، باب ہشتم ، ص 47 )

ہم سیدھے اشرفعلی اور منشی صفدر حسین کی باہمی گفتگو پر آتے ہیں :

منشی صفدر حسین نے ایک حدیث پڑھی :

" من سب اصحابی فقد سبنی و من سبنی فقد سب اللہ "

ترجمہ : جس نے میرے صحابی کو گالی گلوچ یا لعن طعن کیا پس اس نے مجھے لعن طعن کیا اور جس نے مجھے لعن طعن کیا پس اس نے اللہ پر لعن طعن کیا ـ

اس کے بعد کہتا ہے کہ یہ ثابت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے ـ

منشی صفدر حسین کا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی گلوچ اور لعن طعن کیا کرتے تھے ـ ( العیاذ باللہ تعالی )




کیا آپ کو معلوم ہے



کہ یہ الزام رافضی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر لگاتے ہیں ـ کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں خطیب حضرات کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ پر لعن طعن کیا کریں ـ اور حوالہ میں کامل ابن اثیر ، طبقات ابن سعد ، تاریخ طبری ، اور البدایۃ والنھایۃ کی روایات کا سہارا لیتے ہیں ـ

محقق اسلام شیخ الحدیث علامہ محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس الزام کا جواب اس طرح دیا :

یہ سب کی سب روایتیں قابل استدلال اور حجت دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ـ کیونکہ " کامل ابن اثیر " سے یہ لی گئی ہیں اور خود اس کے مصنف نے دیباچہ میں کہا ہے کہ میری کتاب " تاریخ طبری " سے مستفید ہے ـ اس لیے یہ روایت بھی وہی سے اخذ کی گئی ہے ـ کامل بن اثیر کی طرح تاریخ طبری کی سند بھی ایک ہی ہے ـ اور الفاظ بھی تقریبا ملتے جلتے ہیں ـ ان روایات میں دو راوی یعنی ہشام بن محمد قلبی اور لوط بن یحیے ابی مخنف انتہائی مجروح ہیں لہذا یہ روایات قابل استناد نہیں ہیں ـ ان دونوں پر جرح ملاخطہ ہو ـ



لوط بن یحیے ابی مخنف



لسان المیزان :

لوط بن یحیے ابو مخنف ایک اخباری آدمی تھا ـ ادھر ادھر کی باتیں اکٹھی کر لیتا تھا ـ ناقابل و ثوق آدمی تھا ـ ابو حاتم وغیرہ نے اسے متروک قرار دیا ـ دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ـ یحیے بن معین نے اسے " لیس بثقہ " کہا ـ اسی طرح مرۃ نے بھی کہا ـ اور ابن عدی نے اسے شیعی اور متعصّب کہا ـ یہ صرف خبروں کا ہی ماہر تھا ـ

( لسان المیزان ، جلد 4 ، ص 492 ، حرف اللّام مطبوعہ بیروت )




ہشام بن محمد قلبی




لسان المیزان :

ہشام بن محمد القلبی کے متعلق امام احمد بن حنبل نے فرمایا : یہ شخص تو قصّہ کہانیاں کہنے والا تھا ـ اور علم انساب کا عالم تھا ـ میرا خیال ہے کہ کسی نے بھی اس سے کوئی حدیث روایت نہیں کی ـ دارقطنی وغیرہ نے اسے متروک اور ابن عساکر نے اسے شیعی کہا ـ اس کا ثقہ نہ ہونا بتایا ـ

( لسان المیزان ، جلد 6 ، ص 196 ، حرف الہام مطبوعہ بیروت )

طبقاب ابن سعد کی روایت کی سند میں صاف طور پر لوط بن یحیے کا نام مذکور ہے ـ اس روای کا سن وفات 170 ھ ہے ـ اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز تک کے تمام گورنر اور عمال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو برسر منبر گالی دیا کرتے تھے ـ یہ صاحب تو اس دور میں تھے ہی نہیں ـ انہیں کیسے پتہ چل گیا کہ ان کی دنیا میں آمد سے پہلے یہ کچھ ہوتا رہا ـ یہ اس لیے ہم نے کہا کہ اس نے اپنے سے اوپر کسی راوی کا ذکر نہیں کیا کہ اس نے مجھے بتلایا ـ اس سے ہی آپ اس کی دیانت داری اور صدق بیانی کا اندازہ کر سکتے ہیں ـ

البدایۃ والنھایۃ میں مذکور روایت کی سند بالکل موجود نہیں ـ اگر ہوتی تو اس کے متعلق کچھ کہا جاتا ـ

( تحفہ جعفریہ ، ج 5 ، ص 187-144 ، باب 2)

اشرفعلی تھانوی مجذوب کو چاہئے تو یہ تھا کہ سیدھا سیدھا یہ جواب دیتا ـ چلو اگر اس کو اتنا سب کچھ یاد نہ تھا تو صرف اتنا ہی کہہ دیتا کہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ـ مگر مجذوب تھانوی نے حدیث کا جواب دیتے دیتے اس الزام کوصحیح بھی مانا اور ساتھ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا کا مستحق بھی قرار دیا ـ

مجذوب تھانوی کہتا ہے کہ

چاہے اور کوئی سزا ہو مگر یہ سزا ہرگز مراد نہ ہوگی

بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی غیر شخص تیز نظر سے دیکھے گا تو اس کے لئے یہ سزا ہوگی ـ

صاف صاف کہہ رہا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں جو گستاخی کی ہے جس کی سزا چاہے کچھ اور ہو لیکن وہ اس حدیث کے مصداق نہیں بلکہ غیر صحابی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی گلوچ یا لعن طعن کرے گا تو وہ اس حدیث کا مصداق ہوگا ـ

العیاذ باللہ تعالی ! تھانوی جیسے لوگوں کی وجہ سے آج تک دیوبندی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ـ اور بڑی بہادری سے ایسے الزامات کا پرچار کرتے ہیں ـ

کہاں ہیں سپاہ شیطان والے لگاؤ اپنے حکیم الامت پر کفر کا فتوی ؟؟؟؟

کیا اب بھی کسی کو دیوبندی اور شیعہ کے ایک ہونے پر شک ہے ؟؟؟؟

پھر آگے تھانوی اور اس گستاخ کے تعلقات کے حوالے سے لکھا کہ کس طرح تھانوی نے اس گستاخ کی شرمندگی دور کی اور ایک گستاخ صحابی سے اپنی حرام نیند کا علاج کروایا اور بعد میں تعلقات اتنے بڑھے کہ وہ گستاخ کھانے پکوا کر بھیجتا تھا ـ

گستاخ صحابی کا نمک کھانے والا ہمیشہ گستاخی ہی کرے گا جس طرح تھانوی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں کی
 
Make a Free Website with Yola.